پریس ریلیز 2026 02 اپریل اسرائیلی کینیسٹ کا جیلوں میں قید فلسطینی مسلمانوں کو فوجی عدالتوں کے ذریعے سزائے موت دینے کا بل منظور کرنا اسلامو فوبیا کی بد ترین مثال ہے۔



خلافت راشدہ کا نظام

شعبہ نشر و اشاعت تنظیم اسلامی پاکستان

و عظیم شجاع الدین شیخ

media@tanzeem.org 36- کے، ماڈل ٹائون لابور، فون 35869501-042 ای میل

پریس ریلیز

2026 02 اپریل

اسرائیلی کینیسٹ کا جیلوں میں قید فلسطینی مسلمانوں کو فوجی عدالتوں کے ذریعے سزائے موت دینے کا بل منظور کرنا اسلامو فوبیا کی بد ترین مثال ہے۔

حکومت پاکستان اس انسانیت سوزبل کی منظوری پر اسرائیل کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرے۔

(شجاع الدین شیخ)

لاہور (پ ر) : اسرائیلی کنیسٹ کا جیلوں میں قید فلسطینی مسلمانوں کو فوجی عدالتوں کے ذریعے سزائے موت دینے کا بل منظور کرنا اسلامو فوبیا کی بد ترین مثال ہے۔ حکومت پاکستان اس انسانیت سوزبل کی منظوری پر اسرائیل کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرے۔ ان خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ 30 مارچ کو اسرائیلی کنیسٹ نے روایتی اسلام دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک انتہائی امتیازی اور انسانیت سوزیل کی پہلی منظوری دی ہے جس کے مطابق جو فلسطینی مسلمان اپنے گھروں پر صہیونی آباد کاروں کے قبضہ کی کوشش کے خلاف مذاحمت کرتے ہوئے کسی صہیونی کو قتل کر دے گا اس پر مقدمہ عام عدالتوں کی بجائے فوجی عدالتوں میں چلا یا جائے گا۔ جس سے مسلمان قیدی کو سزائے موت دینے کا عمل بھی آسان ہو جائے گا اور اس سے سزا کے خلاف اپیل کا حق بھی چھین لیا جائے گا۔ اگر اس بل کو کنیسٹ دو مرتبہ اور منظور کر لیتی ہے تو اسے قانون کا درجہ حاصل ہو جائے گا اور ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کی جیلوں میں قید مسلمانوں کو 90 دن کے اندر پھانسی دینا لازمی قرار پائے گا۔ صہیونیوں کی درندگی اور اسلام دشمنی کا یہ عالم ہے کہ یہ بہیمانہ قانون صرف فلسطینی مسلمانوں پر ہی لاگو ہو گا جبکہ یہودیوں کو جو آئے دن فلسطینی مسلمانوں کو شہید کرتے ہیں اس قانون سے استثنا حاصل ہو گا۔ امیر تنظیم نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قانون غزہ میں بے پناہ بمباری، لبنان پر حملوں، اور اب ایران کے خلاف جارحیت کے وسیع تر یہودی رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تہہ میں تالمود کی تحریف شدہ تعلیمات کار فرما ہیں۔ یہ وہی تالمود ہے جس کے مطابق یہودیوں کے سوا تمام لوگ انسان نما حیوان ہیں، جن سے جیسا چاہے ظلم کیا جائے ۔ ایسی انسان دشمن نام نہاد مذہبی، تعلیمات کا نیشن یا ہو سمیت ہر صہیونی شدت سے قائل ہے۔ امیر تنظیم نے کہا کہ اگر چہ اقوام متحدہ نے اس قانون کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی، قرار دیا ہے اور ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اسے ظلم، امتیاز اور انسانی حقوق کی مکمل تو نہیں کہا ہے، لیکن زبانی جمع خرچ کے سوا مغرب کے غلام ان اداروں کی اوقات ہی کیا ہے۔ اصل افسوس اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ کسی مسلم ملک نے اس غیر انسانی، مسلم مخالف اور اسلامو فوبیا پر مبنی ہل کے پاس کیے جانے کے خلاف پر زور احتجاج تک نہیں کیا، چہ جائیکہ کوئی عملی قدم اٹھایا جاتا۔ امیر تنظیم نے کہا کہ ہم حکومت پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے سربراہان سے اپیل کرتے ہیں کہ اس معاملے پر ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کے خلاف ہر فورم پر پر زور آواز بھی بلند کی جائے اور انسانیت کے ان دشمنوں کے خلاف مقدور بھر عملی اقدامات بھی کیے جائیں تا کہ طاغوت کے ان علمبرداروں کے دنیا میں پیدا کردہ فساد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔

جاری کرده

رضاء الحق

مرکزی ناظم نشر و اشاعت
 

Post a Comment

Previous Post Next Post